Quotes by jalaluddin rumi biography in urdu
Home / Religious & Spiritual Figures / Quotes by jalaluddin rumi biography in urdu
Then you are at the right place. “بہت سے شیطان خصلت،صوفیوں کی شکل میں موجود ہیں۔اس لئے بیعت میں ہر گز جلدی نہ کرو”۔
جہاں بھی پانی دیکھو وہاں سبزہو گا۔اسی طرح جہاں آنسو ہوتے ہیں وہیں رحمت ہوتی ہے۔
جو عقل سلیم رکھتا ہے وہ خلوت اختیار کرتا ہے کیونکہ تنہائی میں قلب کی صفائی ہوتی ہے۔
جو شخص کسی گناہ کا طریقہ رائج کرتا ہے تو اس کی طرف ہمہ وقت لعنت آتی رہتی ہے۔
نیک لوگ چلے گئے اور ان کے اچھے اعمال باقی رہ گئے اور کمینے لوگ بھی چلے گئے اور ان کے ظلم و لعنت باقی رہ گئے۔
مرغ کی دشمن اس کی آنکھ ہے جو دانہ پر حریص ہے اور اس کی نجات وہ عقل ہے جو جال کو دیکھ لے۔
خواہش کے سانپ کو ابتدا میں ہی مار دینا چاہئے۔اگر دیر کروگے تو یہ بڑھتے بڑھتے اژدھا بن کر تمہارے قابو سے باہر ہو جائے گا۔
حرص تجھ کو اندھا کر کے محروم کرتی ہے اور ابلیس تجھے حرص میں مبتلا کر کے اپنی طرح مردود کرتا ہے۔
جس شخص کا مزاج فاسد اور طبیعت بیمار ہوتی ہے وہ کسی کی تندرستی پسند نہیں کرتا۔
نفس کو دنیا والوں کی تعریف اور خوشامد بہترین لقمہ معلوم ہوتا ہے۔ایسے لقمہ کو مت کھاؤ کہ یہ آگ سے پُر ہے۔
انسانی کی جسمانی ہستی ایک پرکاہ کے برابر ہے۔لیکن آرزوؤں کا پہاڑ اپنے اوپر لاد لیتا ہے۔
ظاہری اعمال ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔لیکن عمل کرنے والوں کی فطرت کے تفاوت سے نتائج عمل بالکل مختلف ہوتے ہیں۔
ایسی ویرانی سے کبھی نہیں گھبرانا چاہئے جو کسی عظیم تعمیری کام کے لئے مقدمہ و آغاز ہو۔
اس دنیا میں کوئی خزانہ سانپ کے بغیر،کوئی پھول کانٹے کے بغیر اور کوئی خوشی غم کے بغیر نہیں ہے۔
کبھی کبھی آنسو اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید کے خون کا درجہ پا لیتے ہیں۔
ٹوٹے ہوئے دل سے نکلنے والی فریاد صدسالہ عبادت سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
rumi quotes on love in urdu
Are you looking love quotes by Rumi in Urdu?
Rumi Quotes – Timeless Sayings on Life, Love, and the Soul
Jalaluddin Rumi — the 13th-century Sufi poet, scholar, and mystic — wrote verses that continue to inspire hearts around the world.
His words transcend religion and culture, touching the core of human emotion and divine connection.
In this collection of Rumi Quotes, you’ll find deep wisdom on life, love, spirituality, and the soul — written to awaken your heart and guide your spirit.
بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔
دنیا حاصل کرنا کوئی برائی نہیں لیکن جب دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جائے تو پھر سراسر خسارہ ہی ہے۔
💞 Rumi Love Quotes
Rumi’s quotes speaks the language of love — both earthly and divine.
Explore more heartfelt lines in our Love Poetry in Urdu
🌿 Rumi Quotes on Life
Rumi reminds us that life is a journey of the soul — full of change, lessons, and light.
“What you seek is seeking you.”
“Don’t grieve.Urdunigaar is providing more than 500 hundreds Jalal Ud Din Rumi quotes in Urdu.
All the quotes are in Urdu Text form which you can copy and paste & download in PDF.
اگر تم دوسروں سے محبت کے خواہاں ہو تو صرف محبت کا مطالبہ نہ کرو بلکہ خود ان سے محبت کرو۔
اگر محبت میں خلوص ہو اور وہ محض نفسانی خواہش کا نیتجہ نہ ہو تو جس طرح عاشق معشوق کا طالب ہوتا ہے اسی طرح معشوق بھی عاشق کا جویا ہوتا ہے۔
احمق کی دوستی اور اس کی محبت سے دین اور دنیا دونوں ہی کا خون ہوتا ہے۔
جو عشق صرف رنگ و روپ کی خاطر ہوتا ہے وہ دراصل عشق نہیں بلکہ فسق ہے اور اس کاانجام شرمندگی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔
عاشق کو ایسی تنہائی مطلوب ہے کہ اس کی آہ کو آسمان کے سوا کوئی اور سننے والانہ ہو۔
Maulana Jalaluddin Rumi Quotes in Urdu
اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے
(مولانا جلال الدین رومی)
خدا تمہیں پہچان لیتا ہے چاہے تم کوئی بھی پردہ اوڑھ لو۔ جو تم نہیں کہتے وہ اسے بھی سنتا ہے
(مولانا جلال الدین رومی)
زندگی کا پانی اندھیروں سے بہتا ہے اندھیروں سے بھاگو مت پل کی ان کو تلاش کرو
(مولانا جلال الدین رومی)
گفتگو سے سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے لیکن تنہائی وہ مدرسہ ہے جہاں عظیم ذہن بنتے ہیں.
(مولانا رومی)
دل سے گفتگو کا جوش اٹھنا دوستی کی علامت ہے اور اگر الفت نہ ہو تو زبان بات کرنے سے روکتی ہے
(حضرت مولانا جلال الدین رومی)
اگر تم خدا کو دیکھنا چاہتے ہو تو اس کا ایک طریقہ ہے کہ تم اپنے دل میں جھانک کے دیکھو کیونکہ تمہارا دل ایک ائینہ ہے اگر یہ بدی سے پاک ہو تو اس میں خدا بھی نظر ا سکتا ہے
(مولانا رومی)
خواہش کے سانپ کو ابتدا میں ہی مار دینا چاہیے اگر دیر کرو گے تو یہ بڑھتے بڑھتے اژدھا بن کر تمہارے قابو سے باہر ہو جائے گا
(مولانا رومی)
یاد رکھو جب تک اپنی نجات کا یقین نہ ہو کسی گنہگار کا مذاق نہ اڑاؤ
(مولانا جلال الدین رومی)
خدا تک پہنچنے کے بہت سارے راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ راستہ “مخلوق سے محبت” چنا ہے
(جلال الدین رومی)
میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں خام تھا” پختہ ہوا اور جل گیا”
(جلال الدین رومی)
برائی سے بچنے کا سب سے طاقتور طریقہ یہ ہے کہ اچھے دوستوں کے ساتھ بیٹھا جائے جنہوں نے اپنا رخ خدا کی طرف موڑ لیا ہے
(جلال الدین رومی)
میں نے بہت سارے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا میں نے بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتا
(مولانا رومی)
اپنی اواز کے بجائے دلائل بلند کرو
(مولانا رومی)
خدا تک پہنچنے کے بہت سارے راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ راستہ مخلوق سے محبت چنا ہے
(مولانا رومی)
میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں خام تھا پختہ ہوا اور جل گیا
(جلال الدین رومی)
برائی سے بچنے کا سب سے طاقتور طریقہ یہ ہے کہ اچھے دوست کے ساتھ بیٹھا جائے جنہوں نے اپنا رخ خدا کی طرف موڑ لیا ہو
(مولانا رومی)
میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا میں نے بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں
(مولانا جلال الدین رومی)
اپنی آواز کے بجائے دلائل بلند کرو
(مولانا رومی)
انسان کو خدا نے بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے جنتی اور جہنمی وہ بعد میں بنتا ہے
(مولانا جلال الدین رومی)
اچھی صورت دل کو متاثر کرتی ہے جبکہ اچھی سیرت روح کو
(مولانا جلال الدین رومی)
جب مشکلات اور پریشانیاں دل میں ڈیرے ڈال دیں تو صبر سے کام لو کیونکہ صبر کی کنجی ہی تو مسرتوں کے در کھلا کرتے ہیں
(مولانا جلال الدین رومی)
جب عقل پر پردہ پڑ جائے تو سمجھانے والا آدمی سب سے برا لگنے لگتا ہے
(مولانا جلال الدین رومی)
جہاں پانی گرتا ہے وہاں سبزہ اگتا ہے جہاں آنسو گرتے ہیں وہاں رب کی رحمت اترتی ہے
(مولانا جلال الدین رومی)
اپنا غرور اتار دو اور عاجزانہ لباس پہن لو تم دنیا سے بڑے ہو جاؤ گے آپ کی ذات آپ پر ظاہر ہوگی تمہارے بغیر
(مولانا جلال الدین رومی)
برداشت کے کانوں سے سنو رحم کی انکھوں سے دیکھو اور محبت کی زبان سے بات کرو
(مولانا رومی)
یہ نفس بد یقین ہے جس نے نمرود کو بھی تباہ کیا ایک پھاڑ کھانے والا بھیڑیا ہے اپنے نفس کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہو
(مولانا جلال الدین رومی)
“As you start to walk on the way, the way appears.”
🌙 Rumi Spiritual Quotes
His spiritual reflections reveal the essence of divine love and inner peace.
🕊️ Rumi Quotes About the Soul
“The soul has been given its own ears to hear things the mind does not understand.”
“When you do things from your soul, you feel a river moving in you, a joy.”
“Let yourself be silently drawn by the strange pull of what you really love.”
Rumi Quotes in Urdu (مولانا رومی کے اقوال)
“جو تم ڈھونڈ رہے ہو، وہ بھی تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔”
“غم نہ کرو، ہر کھوئی ہوئی چیز کسی اور شکل میں واپس آتی ہے۔”
“خاموشی خدا کی زبان ہے، باقی سب کمزور ترجمہ ہے۔”
Read more in our Urdu Quotes Collection
✨ Best Rumi Quotes
❤️ Rumi Quotes in English
These short Rumi lines are perfect for sharing or reflecting on daily life:
Conclusion
Rumi Quotes continue to light the path of those seeking meaning in love, life, and faith.
Each word reminds us to live with compassion, listen to our soul, and find beauty in every moment.
Let Rumi’s timeless wisdom guide your heart — today and always.
💫
Maulana Jalaluddin Rumi 50 Famous Quotes with Explanation in Urdu
وہ صوفی شاعر جن کے اشعار آج بھی روح میں اترتے ہیں اور انسان کو خالقِ حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔مولانا جلال الدین رومیؒ ( Maulana Jalaluddin Rumi ) جس نے اپنی شاعری میں عشق، خود شناسی، اور روحانی سفر کو اس انداز میں بیان کیا کہ اُن کا ہر لفظ دل پر اثر کرتا ہے۔
رومیؒ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ اصل محبت، ظاہری دنیا میں نہیں بلکہ دل کے اندر چھپی اُس روشنی میں ہے جو انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔
مصنف کا تعارف
مولانا جلال الدین رومیؒ ( Maulana Jalaluddin Rumi ) –(1207ء – 1273ء) ایک مشہور فارسی صوفی، شاعر، فلسفی، عالمِ دین اور روحانی معلم تھے جنہیں دنیا بھر میں "رومی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کا اصل وطن بلخ (موجودہ افغانستان) تھا، لیکن سیاسی حالات کے باعث آپ کا خاندان ہجرت کر کے قونیہ (ترکی) میں مقیم ہو گیا۔ مولانا رومیؒ کی تعلیم و تربیت قرآن، حدیث، فقہ، اور تصوف کے گہرے مطالعے پر مبنی تھی۔ ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو حضرت شمس تبریزیؒ سے ان کی ملاقات تھی، جس نے ان کی روحانی زندگی کو بالکل بدل دیا۔
رومیؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت، محبت، روحانیت، اور خود شناسی کا پیغام دیا۔ ان کی مشہور تصانیف میں "مثنوی معنوی" سب سے نمایاں ہے، جسے تصوف کا شاہکار سمجھا جاتا ہے اور اسے "قرآن در زبانِ فارسی" بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا رومیؒ کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ عشقِ الٰہی، صبر، عاجزی، اور انسانیت کی خدمت ہے۔
آج مولانا رومیؒ کو مشرق و مغرب دونوں میں یکساں احترام حاصل ہے۔ ان کی شاعری دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور وہ دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شعرا میں شامل ہیں۔ ان کی تعلیمات کا اثر آج بھی انسانی دلوں کو بدل رہا ہے، اور ان کا مزار ترکی کے شہر قونیہ میں واقع ہے، جو روحانی محبت اور وحدتِ انسانیت کی علامت بن چکا ہے۔
مولانا جلال الدین رومیؒ کے 50 بہترین اقوال
قول نمبر 1
"جو اپنے دل کو جان گیا، وہ اپنے رب کو جان گیا۔"
مولانا رومیؒ اس قول میں خود شناسی کو معرفتِ الٰہی کا دروازہ قرار دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے دل کے رازوں کو سمجھتا ہے، اپنے نفس اور خواہشات کا جائزہ لیتا ہے تو وہ حقیقت میں اپنے رب کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ دل وہ آئینہ ہے جس میں خدا کی نشانی دیکھی جا سکتی ہے۔ خود کو پہچاننا ہی دراصل خالق کی پہچان کا پہلا زینہ ہے۔
قول نمبر 2
"زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے۔"
مولانا رومیؒ دکھ اور مصیبت کو محض تکلیف نہیں بلکہ روحانی بیداری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کے زخم ہی وہ دروازے ہیں جہاں سے روشنی اور تجربہ اندر داخل ہوتا ہے۔ ہر درد دراصل رب کی طرف سے ایک پیغام ہے جو انسان کو مضبوط، نرم دل اور بیدار بناتا ہے۔
قول نمبر 3
"محبت وہ چیز ہے جو ہر چیز کو زندہ کرتی ہے۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک محبت صرف جذبہ نہیں بلکہ زندگی کا مرکز ہے۔ یہ محبت ہی ہے جو انسان کے دل کو روشنی دیتی ہے، نفرت کو مٹا دیتی ہے، اور روح میں تازگی پیدا کرتی ہے۔ محبت انسان کو رب سے جوڑتی ہے، اور انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ جہاں محبت ہے، وہاں زندگی ہے۔
قول نمبر 4
"کل میں ہوشیار تھا، اس لیے دنیا کو بدلنا چاہتا تھا؛ آج میں دانا ہوں، اس لیے خود کو بدل رہا ہوں۔"
یہ قول انسان کی اندرونی تبدیلی پر زور دیتا ہے۔ مولانا رومیؒ سمجھاتے ہیں کہ حقیقی انقلاب اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جو شخص خود کو بدل لیتا ہے، اس کی دنیا خود بخود بدل جاتی ہے۔ بیرونی تبدیلی وقتی ہوتی ہے، لیکن اندرونی تبدیلی ہمیشہ کے لیے انسان کو سکون اور بصیرت عطا کرتی ہے۔
قول نمبر 5
"جو تم تلاش کر رہے ہو، وہ بھی تمہیں تلاش کر رہا ہے۔"
مولانا رومیؒ کے اس قول میں روحانی حقیقت پوشیدہ ہے۔ انسان جس محبت، امن یا حقیقت کی تلاش میں ہے، وہ حقیقت بھی انسان کی طرف متوجہ ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ دل صاف ہو، نیت خالص ہو۔ جب طلب سچی ہو، تو منزل خود مسافر کو پکارتی ہے۔
قول نمبر 6
"خاموشی خدا کی زبان ہے، باقی سب کمزور ترجمے ہیں۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک خاموشی عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ جب انسان بولنا چھوڑ دیتا ہے تو دل بولنا شروع کرتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندہ رب کی آواز سن سکتا ہے۔ خاموشی انسان کو باطن سے جوڑتی ہے، فکری شور کو کم کرتی ہے اور روحانی سکون عطا کرتی ہے۔
قول نمبر 7
"جب تم دل سے نکلتے ہو، تو زندگی ایک قید بن جاتی ہے۔"
مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ دل ہی زندگی کا مرکز ہے۔ اگر انسان صرف دنیاوی عقل سے جیتا ہے اور دل کے جذبات و احساسات کو نظر انداز کرتا ہے تو زندگی بے رنگ ہو جاتی ہے۔ دل سے جینے والا شخص محبت، قربت، اور احساس کے ذریعے حقیقی خوشی پاتا ہے۔
قول نمبر 8
"جو کچھ تمہیں دکھ دیتا ہے، وہی تمہیں جگاتا بھی ہے۔"
رومیؒ اس قول کے ذریعے بتاتے ہیں کہ تکلیفیں دراصل بیداری کے دروازے ہیں۔ انسان جب مصیبت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اپنی کمزوری کو پہچانتا ہے اور اپنے دل کو مضبوط بناتا ہے۔ یہی دکھ روح کی تربیت کرتے ہیں اور انسان کو حقیقت کے قریب لاتے ہیں۔
قول نمبر 9
"پھول ہمیشہ اس مٹی سے اُگتا ہے جو خود زخمی ہوتی ہے۔"
یہ قول رومیؒ کی گہری بصیرت کا عکاس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ درد اور مشکلات وہ زمین ہیں جن سے خوبصورتی جنم لیتی ہے۔ جس نے دکھ سہا ہے، وہی دوسروں کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔ اسی لیے رب کی راہ میں آنے والی آزمائشیں دراصل انسان کے دل کو نرم اور خوبصورت بناتی ہیں۔
قول نمبر 10
"محبت کی راہ میں عقل بے بس ہو جاتی ہے۔"
رومیؒ کے نزدیک عشق ایک ایسی قوت ہے جو عقل کے دائرے سے باہر ہے۔ جب انسان محبت میں ڈوبتا ہے تو وہ حساب کتاب سے نکل کر جذبے کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو بندے کو خالق کے قریب لاتا ہے، کیونکہ عقل سمجھاتی ہے مگر محبت پہنچاتی ہے۔
قول نمبر 11
"زندگی تمہارے لیے تب بدلتی ہے، جب تم خود کو بدلنے کا فیصلہ کرتے ہو۔"
مولانا رومیؒ یہاں خود تبدیلی کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ انسان اکثر حالات کو الزام دیتا ہے مگر اصل تبدیلی تب آتی ہے جب وہ خود اپنے رویے، نیت اور سوچ کو بدلتا ہے۔ جب دل بدل جائے تو تقدیر بھی نئی راہ دکھاتی ہے۔
قول نمبر 12
"تم وہی بن جاتے ہو جسے تم سب سے زیادہ چاہتے ہو۔"
رومیؒ کے اس قول میں ایک گہرا سبق چھپا ہے۔ انسان جس چیز سے محبت کرتا ہے، اس کی روح اسی جیسی بننے لگتی ہے۔ اگر انسان دنیا سے محبت کرے گا تو وہ مادی ہو جائے گا، لیکن اگر رب سے محبت کرے گا تو اس کی روح پاکیزہ اور روشن ہو جائے گی۔
قول نمبر 13
"جس چیز سے تم ڈرتے ہو، وہی تمہیں قید میں رکھتی ہے۔"
رومیؒ کہتے ہیں کہ خوف انسان کو محدود کر دیتا ہے۔ جب تک بندہ اپنے خوف پر قابو نہیں پاتا، وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔ ایمان، یقین، اور رب پر بھروسہ وہ طاقتیں ہیں جو خوف کو توڑ کر انسان کو حوصلہ اور آزادی دیتی ہیں۔
قول نمبر 14
"پیار کرو، کیونکہ محبت ہی روح کی غذا ہے۔"
یہ قول مولانا رومیؒ کے پیغامِ عشق کا خلاصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا جسم روٹی سے زندہ رہتا ہے مگر روح محبت سے۔ جو دل دوسروں کے لیے محبت رکھتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔ محبت ہی وہ روشنی ہے جو دل کو زنگ آلود ہونے سے بچاتی ہے۔
قول نمبر 15
"کبھی کبھی دل کو سکون تب ملتا ہے جب تم خود کو چھوڑ دیتے ہو۔"
رومیؒ سمجھاتے ہیں کہ انسان جب اپنی ضد، انا، اور خواہشات سے نکل آتا ہے تو اندر ایک گہرا سکون پیدا ہوتا ہے۔ خود کو چھوڑ دینا دراصل اپنے رب کے سپرد ہو جانا ہے، اور یہی سچا اطمینان ہے۔
قول نمبر 16
"جب دل صاف ہو، تو دعائیں قبول ہونے میں دیر نہیں لگتی۔"
مولانا رومیؒ اس قول میں نیت اور اخلاص کی طاقت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دعا الفاظ سے نہیں، دل کی سچائی سے قبول ہوتی ہے۔ اگر دل پاک ہو اور نیت خالص، تو رب خود وہ راہیں کھول دیتا ہے جن کا انسان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ پاک دل ہی سب سے بڑی دعا ہے۔
قول نمبر 17
"ہر شخص وہی دیکھتا ہے جو اس کے دل میں ہوتا ہے۔"
رومیؒ کے نزدیک دنیا آئینہ ہے۔ جو شخص محبت سے بھرا ہے، اسے ہر چہرے میں خوبصورتی نظر آتی ہے، اور جو نفرت سے بھرا ہو، اسے ہر چیز میں خامی دکھائی دیتی ہے۔ انسان کی نظر نہیں، اس کا دل طے کرتا ہے کہ وہ کیا دیکھتا ہے۔ لہٰذا دل کو صاف رکھنا ہی خوبصورت زندگی کا راز ہے۔
قول نمبر 18
"جب تم خاموش ہوتے ہو تو تمہارا دل بولتا ہے۔"
رومیؒ خاموشی کو باطنی گفتگو کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شور اور بولنے میں سچائی دب جاتی ہے، مگر جب انسان خاموش ہوتا ہے تو اس کے دل کی آواز نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہی خاموشی انسان کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے اور روحانی شعور بیدار کرتی ہے۔
قول نمبر 19
"اگر تم سورج بننا چاہتے ہو تو جلنا سیکھو۔"
یہ قول قربانی اور صبر کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ مولانا رومیؒ سمجھاتے ہیں کہ روشنی ہمیشہ جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص کامیابی، علم یا روحانیت چاہتا ہے، اسے مشکلات کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ جلنا تکلیف دہ ضرور ہے، مگر یہی جلنا روشنی کا سبب بنتا ہے۔
قول نمبر 20
"محبت میں گرنا آسان ہے، مگر محبت میں قائم رہنا فن ہے۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک محبت وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل مزاجی کا نام ہے۔ ہر کوئی محبت کر لیتا ہے، مگر صرف وہی شخص سچا عاشق ہے جو مشکل وقت میں بھی وفا نبھاتا ہے۔ محبت کی اصل آزمائش استقامت اور خلوص میں ہے، نہ کہ صرف جذبےمیں۔
قول نمبر 21
"جب تم خدا کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہو، تو وہ تمہاری طرف دس قدم آتا ہے۔"
رومیؒ کے اس قول میں رب کی رحمت کا پیغام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ بس بندے کو سچی نیت سے اس کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ رب کی رحمت انسان کے قریب ہے، صرف دل کے دروازے کھولنے کی دیر ہے۔
قول نمبر 22
"اپنے دل کو اتنا بڑا بنا لو کہ نفرت کی کوئی چیز اس میں جگہ نہ پائے۔"
یہ قول انسانیت اور محبت کا سبق دیتا ہے۔ مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ جس دل میں محبت اور برداشت ہو، وہ سب سے قیمتی خزانہ ہے۔ نفرت انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے، مگر محبت اسے روشنی اور طاقت عطا کرتی ہے۔ بڑا دل رکھنے والا انسان ہمیشہ سکون میں رہتا ہے۔
قول نمبر 23
"جو اپنے دل کی بات سنتا ہے، وہ کبھی راستہ نہیں بھٹکتا۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک دل انسان کے اندر ایک الٰہی رہنما ہے۔ اگر انسان اپنے دل کی سچی آواز پر عمل کرے، تو وہ ہمیشہ درست سمت میں رہتا ہے۔ دل وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی دیتا ہے، بشرطیکہ انسان اس کی بات سننا سیکھ لے۔
قول نمبر 24
"جو تم سے چھن گیا، اس پر مت رو، کیونکہ وہ تمہارے نصیب میں نہیں تھا۔"
رومیؒ اس قول میں قناعت اور تقدیر کا سبق دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو چیز ہم سے چھن جاتی ہے، وہ دراصل ہمیں کسی بڑی چیز کے لیے تیار کر رہی ہوتی ہے۔ صبر اور یقین رکھنے والا شخص ہمیشہ جیتتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ رب کی تقسیم بہترین ہے۔
قول نمبر 25
"جب محبت تمہیں بلائے تو اس کے پیچھے چلو، چاہے وہ تمہیں زخمی ہی کیوں نہ کر دے۔"
یہ قول عشقِ حقیقی کی راہ کا بیان ہے۔ مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ محبت کا سفر آسان نہیں، لیکن یہ وہ سفر ہے جو انسان کو خالق سے جوڑ دیتا ہے۔ محبت انسان کو توڑتی ہے مگر اسی توڑنے میں اصل تعمیر پوشیدہ ہے۔ جو اس راستے پر چلتا ہے، وہ آخرکار حقیقت پا لیتا ہے۔
قول نمبر 26
"اگر تم صرف اس وقت دعا کرتے ہو جب تمہیں مشکل ہو، تو تم واقعی رب پر ایمان نہیں رکھتے۔"
مولانا رومیؒ اس قول میں ایمان کی اصل روح بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سچا ایمان صرف مصیبت کے وقت نہیں بلکہ ہر لمحے رب کو یاد کرنے کا نام ہے۔ جو شخص خوشی میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا، وہ دراصل محبت کی اعلیٰ منزل پر ہوتا ہے۔ دعا تب زیادہ اثر رکھتی ہے جب وہ دل کے شکر سے نکلتی ہے، نہ کہ صرف دکھ کے آنسوؤں سے۔
قول نمبر 27
"خدا نے تمہیں زمین پر اس لیے نہیں بھیجا کہ تم دوسروں کی نقل کرو، بلکہ اس لیے کہ تم اپنی پہچان بناؤ۔"
رومیؒ کے نزدیک ہر انسان ایک منفرد تخلیق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو خود کو پہچان لیتا ہے، وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے۔ دنیا کی نقل کرنے والا کبھی اپنی روشنی نہیں پا سکتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی راہ خود تراشے اور اپنی روح کی سچائی پر عمل کرے۔
قول نمبر 28
"جو دل شکر کرنا جانتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔"
مولانا رومیؒ شکر کو سکونِ قلب کی کنجی قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شکر کرنے والا شخص ہر حال میں خوش رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہے، وہ بھی نعمت ہے۔ ناشکری انسان کے دل کو تنگ کرتی ہے، جبکہ شکر دل کو وسیع اور مطمئن بناتا ہے۔
قول نمبر 29
"اگر تمہارے دل میں اندھیرا ہے، تو دوسروں کو روشنی دینے کی کوشش نہ کرو۔"
یہ قول خود اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔ رومیؒ کہتے ہیں کہ جو شخص خود اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، وہ دوسروں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ پہلے اپنے دل کو صاف کرو، اپنی نیت کو درست کرو، پھر تمہاری روشنی خود بخود دوسروں تک پہنچے گی۔
قول نمبر 30
"محبت کوئی چیز تلاش نہیں کرتی، وہ تو صرف دیتی ہے۔"
مولانا رومیؒ محبت کو خالص دینے کا نام قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سچی محبت میں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ محبت کا مفہوم قربانی، وفاداری اور خلوص ہے۔ جو محبت صرف لینے کے لیے ہو، وہ وقتی ہے؛ جو دینے کے لیے ہو، وہ ابدی۔
قول نمبر 31
"جو شخص اپنے دل کو نرم نہیں کرتا، وہ کبھی خدا کو محسوس نہیں کر سکتا۔"
رومیؒ کے نزدیک سخت دلی روح کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نرم دل انسان کے اندر محبت، احساس، اور رحمت پیدا کرتا ہے۔ خدا کی قربت انہیں نصیب ہوتی ہے جن کے دل میں دوسروں کے لیے درد ہوتا ہے۔ نرمی دراصل ایمان کی علامت ہے۔
قول نمبر 32
"زندگی کا راز یہ ہے کہ ہر لمحہ نئے ہو جاؤ۔"
مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ زندگی ایک مسلسل بہاؤ کا نام ہے۔ جو شخص ماضی میں قید رہتا ہے، وہ زندگی کھو دیتا ہے۔ ہر دن ایک نیا موقع ہے، ایک نیا آغاز۔ جو انسان خود کو بدلنے کی ہمت رکھتا ہے، وہی زندگی کے اصل ذائقے سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
قول نمبر 33
"تمہارے الفاظ تمہارے دل کا آئینہ ہیں، انہیں خوبصورت رکھو۔"
رومیؒ اس قول میں زبان کی طاقت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنے الفاظ پر قابو رکھتا ہے، وہ اپنے نفس پر قابو پاتا ہے۔ سخت بول دوسروں کو زخمی کرتے ہیں، جبکہ میٹھے بول دلوں کو جوڑ دیتے ہیں۔ بولنے سے پہلے سوچنا، عقل اور ایمان دونوں کی نشانی ہے۔
قول نمبر 34
"جو تمہارے نصیب میں ہے، وہ تمہیں ڈھونڈ لیتا ہے، چاہے تم اس سے بھاگو۔"
مولانا رومیؒ تقدیر کے یقین کا درس دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا بھی کوشش کرے، وہ اپنے مقدر سے نہیں بچ سکتا۔ بہتر یہی ہے کہ رب کے فیصلوں پر یقین رکھو، کیونکہ جو تمہارے لیے ہے، وہ تم سے کبھی چھن نہیں سکتا۔ یہ ایمان انسان کو صبر اور سکون عطا کرتا ہے۔
قول نمبر 35
"خدا ان دلوں میں نہیں آتا جو خود سے بھرے ہوتے ہیں۔"
رومیؒ کا یہ قول عاجزی کی عظمت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غرور دل کو بند کر دیتا ہے، اور جہاں تکبر ہو وہاں خدا کی رحمت نہیں اترتی۔ جب انسان خود کو خالی کرتا ہے، تب ہی رب کی روشنی اس کے اندر اترتی ہے۔ عاجزی بندے کو محبوب بناتی ہے۔
قول نمبر 36
"اگر تم اپنی روح کو بیدار نہیں کرتے، تو زندگی صرف سانس لینے کا نام رہ جاتی ہے۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک زندگی کا مقصد صرف جسمانی وجود نہیں، بلکہ روحانی بیداری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان تبھی زندہ ہے جب اس کی روح بیدار ہے۔ دل میں احساس، ایمان، اور محبت ہو تو زندگی روشنی بن جاتی ہے۔ ورنہ صرف وقت گزرنا زندگی نہیں کہلاتا۔
قول نمبر 37
"انسان کی اصل قدر اس کے دل کی صفائی سے پہچانی جاتی ہے، نہ کہ اس کے الفاظ یا لباس سے۔"
رومیؒ اس قول میں ظاہری اور باطنی انسان کا فرق واضح کرتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ خوبصورت باتیں اور لباس وقتی ہوتے ہیں، مگر سچا انسان وہ ہے جس کا دل پاک ہو۔ دل کی نرمی اور سچائی انسان کی اصل پہچان ہے، نہ کہ اس کا ظاہری حسن۔
قول نمبر 38
"جب تم دوسروں کو معاف کرتے ہو، تو دراصل خود کو آزاد کرتے ہو۔"
یہ قول روحانی سکون کا راز بتاتا ہے۔ مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ غصہ اور نفرت دل کو قید کر لیتے ہیں، جبکہ معافی دل کو آزاد کرتی ہے۔ جو شخص دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے، وہ دراصل اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے۔ معافی ایک ایسی عبادت ہے جو دل کو روشنی سے بھر دیتی ہے۔
قول نمبر 39
"جو تمہارے اندر ہے، وہی تمہارے باہر ظاہر ہوتا ہے۔"
مولانا رومیؒ اس قول میں باطن اور ظاہر کے تعلق کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دل میں روشنی ہے تو چہرے پر مسکراہٹ ہوگی، اگر دل میں نفرت ہے تو زندگی میں اندھیرا۔ اس لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر کی صفائی کرنی چاہیے، تبھی باہر کی دنیا بدلتی ہے۔
قول نمبر 40
"جب تم ہر چیز کو چھوڑ دیتے ہو، تو خدا تمہیں سب کچھ عطا کرتا ہے۔"
یہ قول ترکِ دنیا اور قربِ الٰہی کا گہرا پیغام دیتا ہے۔ رومیؒ کہتے ہیں کہ جب انسان اپنی انا، خواہشات، اور مادی لالچ سے آزاد ہوتا ہے تو رب اس کے دل کو اپنی نعمتوں سے بھر دیتا ہے۔ خالی دل ہی وہ پیالہ ہے جس میں رحمت اتر سکتی ہے۔
قول نمبر 41
"خوشبو کبھی خود کے لیے نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے پھیلتی ہے۔"
مولانا رومیؒ انسان کو اخلاق و کردار کی خوبصورتی سکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیک انسان پھول کی طرح ہوتا ہے — وہ دوسروں کے لیے خوشبو بن کر جیتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے بھلائی کرتا ہے، وہ خود بھی سکون اور عزت پاتا ہے۔ نیکی کا اصل لطف بانٹنے میں ہے۔
قول نمبر 42
"جب تم حقیقت کو سمجھ لیتے ہو، تو شک ختم ہو جاتا ہے۔"
رومیؒ علم و یقین کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شک ہمیشہ اندھیروں میں پلتا ہے، مگر علم اور تجربہ انسان کو روشنی دیتا ہے۔ جو شخص سچائی تک پہنچ جاتا ہے، اس کے دل میں کوئی خوف یا تذبذب باقی نہیں رہتا۔ یقین ایمان کی بنیاد ہے۔
قول نمبر 43
"جو دل سے محبت کرتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک محبت ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو رب اور کائنات سے جوڑ دیتی ہے۔ جو شخص سچے دل سے محبت کرتا ہے، اس کے اردگرد ہمیشہ روشنی اور سکون رہتا ہے۔ محبت دلوں کو ملاتی ہے اور تنہائی کو مٹا دیتی ہے۔
قول نمبر 44
"ہر صبح ایک نیا جنم ہے، اگر تم ماضی کو چھوڑ دو۔"
رومیؒ انسان کو حال میں جینے کا سبق دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو ماضی کے غموں میں قید رہتا ہے، وہ حال کی خوشی کھو دیتا ہے۔ ہر دن ایک نیا آغاز ہے، ایک نئی فرصت۔ جو کل کے دکھ بھلا دیتا ہے، وہ آج کی روشنی میں زندہ رہتا ہے۔
قول نمبر 45
"سچ بولنے کے لیے پہلے اپنے نفس کو خاموش کرو۔"
مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ جب تک انسان کا نفس غالب ہے، اس کی زبان سے سچ نہیں نکل سکتا۔ سچ وہی بولتا ہے جس کا دل پاک اور نیت صاف ہو۔ اپنے اندر کے شور کو دبانا ہی وہ پہلا قدم ہے جو سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔
قول نمبر 46
"دل کے دروازے کو ہمیشہ کھلا رکھو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ روشنی کب داخل ہو جائے۔"
یہ قول امید اور ایمان کا خوبصورت پیغام دیتا ہے۔ رومیؒ کہتے ہیں کہ زندگی کے اندھیروں میں بھی امید کو زندہ رکھو، کیونکہ روشنی ہمیشہ اچانک آتی ہے۔ جس نے اپنے دل کو کھلا رکھا، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
قول نمبر 47
"محبت خاموشی سے پروان چڑھتی ہے، شور میں نہیں۔"
مولانا رومیؒ محبت کی گہرائی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سچی محبت دکھاوے سے پاک ہوتی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو دل میں خاموشی سے بڑھتا ہے اور انسان کو بدل دیتا ہے۔ جو محبت شور مچاتی ہے، وہ وقتی ہوتی ہے۔
قول نمبر 48
"جو تمہارے لیے لکھا گیا ہے، وہ تم سے کبھی چھن نہیں سکتا۔"
رومیؒ تقدیر پر ایمان رکھنے کا درس دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو نصیب میں ہے، وہ ضرور ملے گا، چاہے دیر سے ہی کیوں نہ ہو۔ اس یقین سے دل کو سکون ملتا ہے اور انسان حسد و فکر سے آزاد ہو جاتا ہے۔
قول نمبر 49
"جو دل سے گرتا ہے، وہ پھر کسی آنکھ میں نہیں چڑھتا۔"
یہ قول کردار اور سچائی کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ رومیؒ کہتے ہیں کہ عزت وہ شے ہے جو دلوں میں ہوتی ہے، نہ کہ زبانوں پر۔ ایک بار اگر انسان کا کردار ٹوٹ جائے تو دنیا کے الفاظ بھی اسے نہیں بچا سکتے۔ سچائی سب سے بڑی عزت ہے۔
قول نمبر 50
"محبت کے بغیر عبادت جسم کی مشقت ہے، روح کی نہیں۔"
مولانا رومیؒ کے نزدیک عبادت صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو عبادت محبت سے خالی ہو، وہ صرف رسم رہ جاتی ہے۔ سچی عبادت وہ ہے جس میں بندہ اپنے رب سے محبت اور شوق کے ساتھ جڑتا ہے۔
نتیجہ:
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا رومی کے اقوال انسان کی روح کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ ان کے الفاظ دلوں میں روشنی اور زندگی میں سکون پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم رومی کے پیغام کو سمجھ لیں، تو ہماری زندگی خود بخود محبت اور امن سے بھر جائے گی۔
کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا رومی قول پڑھا جو آپ کی زندگی بدل گیا ہو؟ نیچے تبصرے میں ضرور لکھیں تاکہ دوسرے بھی فیض یاب ہوں۔
مزید اقوال پڑہیں:
بہترین سنہری اقوال500+ Best Rumi Quotes in Urdu | Maulana Rumi Quotes
Rumi Quotes in Urdu Maulana Rumi Quotes In Urdu
جب اللہ تعالیٰ کسی کی رسوائی چاہتا ہے تو اس کو پاک لوگوں پر لعن طعن کرنے کی طرف مائل کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی فرد کی عیب پوشی کرنا چاہتا ہے تو اسے میعوب لوگوں کے عیب پر بھی بات نہ کرنے کی توقیق بخش دیتا ہے۔
جدائی کا ایک لمحہ بھی عاشق کے نزدیک ایک سال کے برابر ہے۔
حلم کی تلوار لوہے کی تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے بلکہ فتح حاصل کرنے میں حلم سینکڑوں لشکر سے زیادہ موثر ہے۔
جب بیمار کی قضا آتی ہے تو طبیب بھی بے وقوف ہو جاتا ہے۔
قرب خداوندی کا حصول بقا میں مضمر ہے لیکن بقا سے پہلے”ہونا” ضروری ہے۔
کتنے ہی متقی ہو جاؤ مگر نفس سے کبھی بے فکر نہ ہونا۔
کتا چاہے کتنا ہی تربیت یافتہ ہو جائے مگر اس کی گردن سے زنجیر الگ نہ کرو۔
کوئی نقص الذہن کسی کام کے مقام کو نہیں سمجھا سکتا۔
ہر شر اور عیب بھی اپنی پیدائش کے لحاظ سے حکمت کا حامل ہے۔
رات کو سو جانے کے بعد قیدی،قید خانے کی تکلیف سے اور بادشاہ اپنی سلطنت اور دولت کے احساس سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔
اللہ والوں کی باتیں سکون قلب عطا کرتی ہیں اور اہل ظاہر کی باتیں دل میں انتشار اور بے اطمینانی پیدا کرتی ہیں۔
اے لوگو!